21 جون 2013 - 19:30
سانحہ مدرسہ شہید الحسینی پشاور پر جعفریہ یوتھ پاکستان کا احتجاج اور 3 روزہ سوگ کا اعلان

مرکزی ناظم اعلٰی نے کہا کہ حالیہ سانحہ پشاور نے ایک بار پھر 25 سال قبل شہید عارف الحسینی کے خون سے اسی سرزمین کے رنگین ہونے کی یاد تازہ کر دی ہے۔ اسی مقام پر شہید حسینی نے اپنی جان جانِ آفرین کے سپرد کی تھی۔

ابنا: جعفریہ یوتھ پاکستان کے مرکزی ناظم اعلٰی سید اظہار بخاری نے قائد ملت جعفریہ شہید علامہ عارف حسین الحسینی کے نام سے موسوم مدرسہ شہید عارف الحسینی پر خودکش حملے اور دہشت گردی کے سنگین واقعے کی پرزور مذمت کی ہے اور اسے جنونی دہشت گردوں کی طرف سے جاری سابقہ جارحیت کا تسلسل قرار دیا ہے۔ جس میں فرقہ پرست شدت پسند ایک خاص مسلک اور مکتب فکر کے علماء، مدارس، مساجد، امام بارگاہوں، شخصیات، رہنماؤں اور عوام کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ سید اظہار بخاری نے کراچی میں ایم کیو ایم کے ممبر صوبائی اسمبلی اور ان کے بیٹے کے جاں بحق ہونے کے واقعہ کی بھی پرزور مذمت کی اور اسے انہی عناصر کی کارروائی قرار دیا جو پاکستان کے مختلف طبقات اور افکار سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو نشانہ بنا کر اپنی مرضی کی پالیسیاں اور فیصلے مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ سید اظہار بخاری نے کہا کہ کراچی کا سانحہ یقیناً افسوس ناک اور قابل مذمت ہے لیکن میڈیا اور سرکاری اداروں کی طرف سے سانحہ پشاور کو دبا کر سانحہ کراچی کو اجاگر کرنے کا عمل بھی قابل مذمت ہے۔ ایک طرف پندرہ سے زیادہ لاشیں موجود ہیں اور بیسیووں افراد شدید زخمی ہیں، دوسری طرف ایک شخصیت دہشت گردی کا شکار ہے، اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ سانحہ پشاور کو منظر سے ہٹا دیا جائے۔ جعفریہ یوتھ پاکستان کے مرکزی ناظم اعلٰی نے کہا کہ حالیہ سانحہ پشاور نے ایک بار پھر 25 سال قبل شہید عارف الحسینی کے خون سے اسی سرزمین کے رنگین ہونے کی یاد تازہ کر دی ہے۔ اسی مقام پر شہید حسینی نے اپنی جان جانِ آفرین کے سپرد کی تھی۔ آج ان کے پوتے سید مہدی الحسینی نے اپنے دادا کے سنت ادا کرتے ہوئے شہادت کا درجہ حاصل کیا ہے جو شہید حسینی کی مشن حسین (ع) سے گہری وابستگی کی دلالت کرتا ہے۔ ستم ظریفی کی انتہا ہے کہ شہید عارف حسینی کے قاتلوں کو بھی تختہ دار پر نہیں لٹکایا گیا اور اب بھی وہی سلسلہ جاری ہے۔ عوام کو اب بھی کوئی حوصلہ افزاء امید نہیں ہے کہ موجودہ سانحہ کے ملزمان، مجرمان اور ذمہ داران کو عبرت ناک انجام تک پہنچایا جائے گا۔ سید اظہار بخاری نے سانحہ پشاور کے حوالے سے جعفریہ یوتھ پاکستان کی طرف سے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا اور کہا کہ اس سانحے کے حوالے سے قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی اور شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلان کردہ لائحہ عمل کے مطابق پاکستان بھر میں احتجاج میں نہ صرف حصہ ڈالا اور شرکت کی جائے گی بلکہ احتجاجی پروگراموں کے انعقاد کی ذمہ داری ادا کی جائے گی۔ انہوں نے جعفریہ یوتھ کے کارکنان اور جوانوں کو ہدایت کی کہ وہ قومی قیادت اور قومی جماعت کے فیصلوں پر نظر رکھیں۔......./169